سوشل میڈیا پر شدید تنقید کے بعد اساتذہ کو گرمیوں کی چھٹیوں میں فلمیں دیکھنے کا ٹاسک تبدیل، نیا آرڈر جاری

جہلم: سوشل میڈیا پر شدید تنقید کے بعد اساتذہ کو گرمیوں کی چھٹیوں میں فلمیں دیکھنے کا ٹاسک تبدیل کر کے محکمہ تعلیم جہلم نے نیا آرڈر جاری کر دیا، بھارتی اور ہالی وڈ فلمیں دیکھنے کے حکم نامے کو واپس لےلیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز محکمہ تعلیم جہلم کے ڈپٹی ڈی او راؤ عبدالکریم کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن سوشل میڈیا پر وائرل ہوگیا جس میں اساتذہ کو تعطیلات کے دوران بالی وڈ اور ہالی وڈ کی فلمیں دیکھنے کا ٹاسک دیا گیا۔

اساتذہ کے ہوم ورک کے اس خصوصی نوٹیفکیشن میں انہیں اگلے تعلیمی سیشن کے لیے سبق کی منصوبہ بندی کا رجسٹر تیار کرنے اور اپنے مضمون کی تیار کرنے کی ہدایت کی گئی جس کا امتحان ان سے ستمبر اکتوبر میں لیا جانا ہے۔

اس کے ساتھ اساتذہ کو کسی کتاب کا مطالعہ کر کے اس کا ریویو لکھنے اور اسے اسسٹنٹ ایجوکیشن افسر کے پاس جمع کرانے کی ہدایت کی گئی، جس پر اسسٹنٹ ایجوکیشن افسر نہ صرف ان کا انٹرویو کرے گا بلکہ کتاب پر تبادلہ خیال بھی کیا جائے گا۔

علاوہ ازیں نوٹیفکیشن میں کچھ تعلیمی ویب سائٹ کے ایڈریس بھی درج ہیں جن سے اساتذہ کو مدد لینے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ تاہم سب سے انوکھا ٹاسک اساتذہ کو تعلیمی تصورات بہتر بنانے کے لیے بالی وڈ اور ہالی وڈ کی کچھ فلمیں دیکھنے کا دیا گیا۔

ان فلموں میں بالی وڈ کی ‘تارے زمین پر، ہچکی، آئی ایم کلام، اور سودیس’ جبکہ ہالی وڈ کی ‘آ بیوٹی فل مائنڈ، فاریسٹ گمپ، تھیوری آف ایوری تھنگ، پرسوایٹ آف ہیپی نیس، گُڈ ڈائنا سور، وال وی، گُڈ وِل ہنٹنگ، گریٹ ڈبیٹر، اسپرٹ، اَپ اور اسپرٹڈ اوے شامل ہیں۔

اس انوکھے ٹاسک کے سبب یہ نوٹیفکیشن سوشل میڈیا پر وائرل ہوگیا، متعدد صارفین نے اسے حیرت انگیز طور پر مثبت اقدام قرار دیا جبکہ زیادہ تر صارفین نے شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔

تا ہم ڈپٹی کمشنر کے نوٹس اور سوشل میڈیا پر شدید تنقید کے بعد محکمہ تعلیم جہلم کی جانب سے اساتذہ کو فلمیں دیکھنے کا نوٹیفکیشن واپس لے لیا گیا۔

محکمہ تعلیم جہلم نے نیا آرڈر بھی جاری کر دیا، ٹیچرز کو فلمیں دیکھنے کے آرڈر کےبعد اسائنمنٹ تبدیل کردی گئی، نئے آرڈر میں اساتذہ کو فلموں کی جگہ مختلف ویب سائٹ بتائی گئی ہیں جبکہ بالی وڈ اور ہالی وڈ فلمیں دیکھنے کے حکم نامے کو واپس لےلیا گیا ہے۔

نئے نوٹیفکیشن میں فلموں والے حصے میں نئی تحریر شامل کی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button